ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / گجرات حکومت پر سپریم کورٹ سخت، کہا: آسارام کے خلاف ٹرائل کو لٹکائے نہ رکھے 

گجرات حکومت پر سپریم کورٹ سخت، کہا: آسارام کے خلاف ٹرائل کو لٹکائے نہ رکھے 

Thu, 13 Apr 2017 00:47:30    S.O. News Service

نئی دہلی:12/اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)نابالغہ سے عصمت دری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا ہے کہ آسا رام کے خلاف مقدمے کی سماعت کو لٹکائے نہ رکھیں۔اس معاملے میں اگر عملی طورپر ممکن ہوتو گواہوں کے بیانات درج کروائے جائیں،کیونکہ آسارام طویل عرصے سے جیل میں ہے۔گجرات حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں گواہوں کو لے کر تیزی سے کارروائی چل رہی ہے، 29گواہوں کے بیانات درج ہو چکے ہیں اور 46کے بیانات درج ہونے باقی ہیں۔اس درمیان دو گواہوں کا قتل ہوچکا ہے اورکئی زخمی ہوئے ہیں۔وہیں آسارام کی جانب سے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کو ہدایت دے کہ گواہوں کے بیانات درج کرانے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔عدالت معاملے کی سماعت جولائی میں کرے گا۔دراصل، آسارام نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی عرضی دائر کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے عرضی کو مستردکرتے  ہوئے کہا تھا کہ جب تک معاملے کے گواہوں کے بیانات ٹرائل کورٹ میں درج نہیں ہو جاتے، وہ معاملے کی سماعت نہیں کرے گا۔آسارام 2013سے جیل میں بند ہے۔اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں کو آسارام کے معاملے میں چار گواہوں کو تحفظ دینے کی ہدایت دی ہے۔معاملے کی اگلی سماعت اب چار ہفتے بعد ہوگی۔درخواست گزار نے عدالت کو معلومات دی تھی کہ ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش حکومتوں کی جانب سے معاملے میں ابھی تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ہے، ایسے میں انہیں سیکورٹی مہیا کرائی جائے، کیونکہ ان کی جان کا خطرہ لاحق ہے۔دراصل، گواہوں کے قتل اور دھمکانے کے الزام کے معاملے میں سی بی آئی یا ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر عدالت نے مرکزی حکومت اور ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ 10اہم گواہوں میں سے تین کو قتل کیا جا چکا ہے اور باقی سات پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔عرضی میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں کی طرف سے تنتر پوجا کو لے کر بھی سی بی آئی جانچ کروائی جائے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ وہ دونوں تنتر پوجا کسی چھوٹے بچے کی لاش کے سامنے کرتے ہیں۔


Share: